ابنا: فرانس کے صدر فرانسوا اولينڈ ايلزہ محل ميں ، سعودي عرب کے وزير خارجہ سعودالفيصل،متحدہ عرب امارات کے وزير خارجہ عبداللہ بن زائد آل نھيان اور اردن کے وزير خارجہ ناصر جودہ کے ميزبان تھے۔بعض عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ کي فرانسيسي حکام سے ملاقاتيں ايسے وقت ميں انجام پائي ہيں جب شام کے خلاف امريکي دھمکوں کي حمايت کرنے والے فرانسيسي حکام عالمي رہنماؤں خاص طور سے سلامتي کونسل کے مستقل ارکان سے صلاح و مشورے کر رہے ہيں۔
دوسري جانب فرانس کے وزير خارجہ لوران فابيوس اتوار کے روز اپنے چيني ہم منصب سے ملاقات کے لئے بيجنگ جانے والے ہيں، وہ چيني حکام سے مذاکرات کے بعد روس بھي جائيں گے۔يہ اقدامات ايسے وقت ميں جاري ہيں جب شام مخالف عرب اتحاد بھي ميدان ميں کود پڑا ہے اور علاقائي اجلاسوں کے ذريعے اس بات کي کوشش کر رہا ہے کہ ايک بار پھر شام کے خلاف امريکي حملے کي حمايت ميں کسي طرح کا اتفاق رائے حاصل ہوجائے۔اگر چہ عرب ليگ نے اپني مجموعي پاليسي کے تحت بحران شام کے حل کي روسي تجويز کا خير مقدم کيا ہے ليکن سعودي عرب ان ممالک ميں سے ايک ہے جس نے روس کي تجويز کا تاحال خير مقدم نہيں کيا ہے۔
سعودي عرب اور قطر دونوں اس وقت بھي شام کے خلاف جنگي سوچ کي حمايت اور اس کے لئے لابنگ کر رہے ہيں۔امريکي صحافي اور محقق وين مڈسن کا کہنا ہے کہ سعودي عرب کے انٹيلي جينس چيف بندر بن سلطان نے فرانسيسي اور امريکي پارلمينٹ کے ارکان کي حمايت حاصل کرنے کي غرض سے انہيں بھاري رشوتيں دي ہيں۔سعودي عرب ان گنے چنے ممالک ميں سے ايک ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کي رپورٹ سامنے آنے سے پہلے ہي حکومت شام پر کيميائي ہتھياروں کے الزامات لگانا شروع کرديئے تھے اور يوں دہشتگردوں کے عوام مخالف اور مجرمانہ اقدامات پر پردہ ڈالنے کي ناکام کوشش کي تھي ۔ سياسي مبصرين سعودي عرب کے موجودہ کوششوں کو اشتعال انگيز اور شام کے خلاف حکومت رياض کي پروپيگنڈا مہم کا حصہ قرار دے رہے ہيں۔
.......
/169